Saturday, 8 May 2021

میرے لب پر اگر کبھی آئی

 میرے لب پر اگر کبھی آئی

رقص کرتی ہوئی ہنسی آئی

ان کے مجھ پر ستم بڑھے جب سے

دردِ دل میں بہت کمی آئی

ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو

روتے روتے کبھی ہنسی آئی

رقص کرنے لگے مِرے ارماں

یاد جب ان کی جھومتی آئی

مشعلِ راہ بن کے اے تاباں

ان کے جلووں کی روشنی آئی


انور تاباں

No comments:

Post a Comment