یہ کہکشائیں سب نجوم ماہتاب چھین لو
خدائے تیرگی سے اپنا آفتاب چھین لو
یہ گلتی پستکوں کے حرف کھوجنے سے فائدہ
ورق ورق جو زندگی ہے وہ کتاب چھین لو
قرن قرن جو لکھ چکے ہیں تلخیاں جہان کی
کتابِ زندگی کا ان سے انتساب چھین لو
عرق سے ہی کشید اپنا موسمِ بہار ہے
اٹھو سرود چھین لو، اٹھو رباب چھین لو
ترس گئیں کرن کرن کو تیرہ تار بستیاں
نظامِ زرگری سے اس کی آب و تاب چھین لو
حقیر شہر کی ذلالتوں کا یہ علاج ہے
معززینِ شہر سے سبھی خطاب چھین لو
چُرا چکے ہیں مسخرے شعار انقلاب کے
فریبیوں سے بڑھ کے اپنا انقلاب چھین لو
مشتاق علی شان
No comments:
Post a Comment