Saturday, 8 May 2021

یہ کہکشائیں سب نجوم ماہتاب چھین لو

 یہ کہکشائیں سب نجوم ماہتاب چھین لو

خدائے تیرگی سے اپنا آفتاب چھین لو

یہ گلتی پستکوں کے حرف کھوجنے سے فائدہ

ورق ورق جو زندگی ہے وہ کتاب چھین لو

قرن قرن جو لکھ چکے ہیں تلخیاں جہان کی

کتابِ زندگی کا ان سے انتساب چھین لو

عرق سے ہی کشید اپنا موسمِ بہار ہے

اٹھو سرود چھین لو، اٹھو رباب چھین لو

ترس گئیں کرن کرن کو تیرہ تار بستیاں

نظامِ زرگری سے اس کی آب و تاب چھین لو

حقیر شہر کی ذلالتوں کا یہ علاج ہے

معززینِ شہر سے سبھی خطاب چھین لو

چُرا چکے ہیں مسخرے شعار انقلاب کے

فریبیوں سے بڑھ کے اپنا انقلاب چھین لو


مشتاق علی شان

No comments:

Post a Comment