میرے سرکار اطاعت نہیں ہونے والی
اب تو بے کار سیاست نہیں ہونے والی
کر گرفتار ترے دل کو کِیا ہے قیدی
مان لو ہار بغاوت نہیں ہونے والی
دل کو درکار ہے اک مست نظر ساقی کی
بن کے مے خوار شرارت نہیں ہونے والی
ایک خواہش جو ترے عرض گذارش کی ہے
سرِ دیوار عبارت نہیں ہونے والی
کچھ ذرا ساغر و مینا بھی میسر ہو ہمیں
دمِ تلوار محبت نہیں ہونے والی
اپنی مسکان کو دھیرے سے جلا دو ورنہ
دھند کے پار حرارت نہیں ہونے والی
ہم کو دشمن بھی ہے مطلوب ذرا نسلی سا
زیرِ معیار عداوت نہیں ہونے والی
ہما علی
No comments:
Post a Comment