Sunday, 3 October 2021

بہار رنگ مرے چار سو ابھی تک ہے

 بہار رنگ مِرے چار سُو ابھی تک ہے

دوامِ حسن ہے وہ ماہ رو ابھی تک ہے

سنا تھا فرقتیں حُلیہ بگاڑ دیتی ہیں؟

کہاں کا ہجر کہ وہ خُوبرو ابھی تک ہے

ہو رنج کیا اسے محرومئ تمنا کا

انا کے باب میں وہ سرخرو ابھی تک ہے

زمانے والے اسے مجھ سے دور لے جائیں

وگرنہ خواب میں تو گفتگو ابھی تک ہے

وہ صفحہ ڈائری کا اب بھی ہے مہکتا سا

کہ خشک پھول میں بھی رنگ و بو ابھی تک ہے

یہ کالی شال میں ہر پل جو اوڑھے رکھتی ہوں

یہ پہلے عشق کی تھی آبرو ابھی تک ہے


ہما علی

No comments:

Post a Comment