Sunday, 3 October 2021

شکر ہے وہ نظر تو آنے لگی

شکر ہے وہ نظر تو آنے لگی

یہ اداسی کہیں ٹھکانے لگی

تُو مجھے روک بھی نہیں رہا ہے

اور یہ بس بھی دور جانے لگی

چُھپ کے ملنا بھی رائیگاں ہی گیا

اس کی خوشبو بدن سے آنے لگی

کتنی مشکل سے میں رِہا ہوا تھا

اور وہ آنکھ پھر بلانے لگی

پہلے تو دور رکھا دل سے مجھے

پھر وہ خود راستہ دکھانے لگی


کفیل رانا

No comments:

Post a Comment