کیسا جادو ہے کے لو نام بھی جی اُٹھتے ہیں
تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں
یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے
یہ دریچہ، یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں
جانے کیا دُور اُفق سے وہ ضیا آتی ہے
کچھ ستارے تو سرِ شام بھی جی اٹھتے ہیں
اک نظر دیکھ لے مجھ کو جو نظر بھر کے تُو
دنیا والوں کے یہ الزام بھی جی اٹھتے ہیں
تُو جو ٹھہرے کبھی اک پل کو کسی محفل میں
خاص تو خاص ہیں سب عام بھی جی اٹھتے ہیں
کچھ لہو بند تخیل میں چھڑک دیتی ہوں
ایسے شعروں میں تو الہام بھی جی اٹھتے ہیں
ہما علی
واہ واہ 👌👏🏻
ReplyDeleteالسلام علیکم سہیل شاہد صاحب! بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ، شاعری کو سراہنے کے لیے تہ دل سے مشکور ہوں۔
Delete