لایا ہوں تیرے واسطے پائل خرید کر
اب پہن لے اسے اور پیارا مزید کر
تھوڑی سی الفتوں سے بنتا نہیں ہے کچھ
اس واسطے محبت مجھ سے شدید کر
پوچھا طبیب سے جب نسخہ بینائی کا
اس نے کہا کہ یار کے چہرے کی دید کر
تُو میرے ساتھ رہ جا مِرے سائے کی طرح
خود کو نہ یار! مجھ سے اتنا بعید کر
مانا کہ ہم غریب ہیں پر دل امیر ہے
تھوڑی سی دیر ہم سے بھی گُفت و شنید کر
میں نے سنا ہے تجھ کو مرشد بھی کہتے ہیں
گر یوں ہے پھر مجھے بھی اپنا مرید کر
احمد وقاص
No comments:
Post a Comment