Thursday, 14 October 2021

لایا ہوں تیرے واسطے پائل خرید کر

 لایا ہوں تیرے واسطے پائل خرید کر

اب پہن لے اسے اور پیارا مزید کر

تھوڑی سی الفتوں سے بنتا نہیں ہے کچھ

اس واسطے محبت مجھ سے شدید کر

پوچھا طبیب سے جب نسخہ بینائی کا

اس نے کہا کہ یار کے چہرے کی دید کر

تُو میرے ساتھ رہ جا مِرے سائے کی طرح

خود کو نہ یار! مجھ سے اتنا بعید کر

مانا کہ ہم غریب ہیں پر دل امیر ہے

تھوڑی سی دیر ہم سے بھی گُفت و شنید کر

میں نے سنا ہے تجھ کو مرشد بھی کہتے ہیں

گر یوں ہے پھر مجھے بھی اپنا مرید کر


احمد وقاص

No comments:

Post a Comment