بچپن گزار کر میں جوانی میں آ گیا
پھر یوں ہوا کے اس کی کہانی میں آ گیا
اس نے حسین پاؤں اتارے تھے جھیل میں
پانی رکا ہوا تھا،۔ روانی میں آ گیا
لو رات کاٹ دی ہے اذیت میں ہم نے پھر
لو چاند اپنے وقت پہ پانی میں آ گیا
ہم نے کتابِ خواب کو جب کھول کر پڑھا
اک شخص یاد، یاد پرانی میں آ گیا
اہلِ زباں نے حسنِ زباں میں کیا کلام
ہر لفظ اپنی شکل کے معنی میں آ گیا
میں خود کو رکھ کے بھول گیا تھا کہیں شفیق
پھر یوں ہوا کے یاد دہانی میں آ گیا
شفیق عطاری
No comments:
Post a Comment