Thursday, 14 October 2021

بچپن گزار کر میں جوانی میں آ گیا

 بچپن گزار کر میں جوانی میں آ گیا

پھر یوں ہوا کے اس کی کہانی میں آ گیا

اس نے حسین پاؤں اتارے تھے جھیل میں

پانی رکا ہوا تھا،۔ روانی میں آ گیا

لو رات کاٹ دی ہے اذیت میں ہم نے پھر

لو چاند اپنے وقت پہ پانی میں آ گیا

ہم نے کتابِ خواب کو جب کھول کر پڑھا

اک شخص یاد، یاد پرانی میں آ گیا

اہلِ زباں نے حسنِ زباں میں کیا کلام

ہر لفظ اپنی شکل کے معنی میں آ گیا

میں خود کو رکھ کے بھول گیا تھا کہیں شفیق

پھر یوں ہوا کے یاد دہانی میں آ گیا


شفیق عطاری

No comments:

Post a Comment