Thursday, 14 October 2021

نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے

 نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے

چلے جائیں چاہے چلے جانے والے

تڑپتے ہیں ہم یہ ہمارا مقدر

سلامت رہیں ہم کو تڑپانے والے

ستم جس قدر تم سے ہوتے ہیں کر لو

کہاں ہم محبت سے باز آنے والے

ہیں زاہد پریشان دوزخ کے ڈر سے

نِڈر ہو کے پھرتے ہیں میخانے والے

مرے مرض کی لاکھ کر کر دوائیں

اب اکتا گئے ہیں دواخانے والے

ترے بن کسی سے بہلتا نہیں ہے

ہیں لاکھوں مرے دل کو بہلانے والے

بھکاری بنے تیری گلیوں کے آخر

کبھی ہم بھی تھے حکم فرمانے والے

یہ پاگل یہ مجنوں یہ دیوانے باسط

ہیں جرمِ وفا کی سزا پانے والے


باسط علی حیدری

No comments:

Post a Comment