نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے
چلے جائیں چاہے چلے جانے والے
تڑپتے ہیں ہم یہ ہمارا مقدر
سلامت رہیں ہم کو تڑپانے والے
ستم جس قدر تم سے ہوتے ہیں کر لو
کہاں ہم محبت سے باز آنے والے
ہیں زاہد پریشان دوزخ کے ڈر سے
نِڈر ہو کے پھرتے ہیں میخانے والے
مرے مرض کی لاکھ کر کر دوائیں
اب اکتا گئے ہیں دواخانے والے
ترے بن کسی سے بہلتا نہیں ہے
ہیں لاکھوں مرے دل کو بہلانے والے
بھکاری بنے تیری گلیوں کے آخر
کبھی ہم بھی تھے حکم فرمانے والے
یہ پاگل یہ مجنوں یہ دیوانے باسط
ہیں جرمِ وفا کی سزا پانے والے
باسط علی حیدری
No comments:
Post a Comment