Thursday, 14 October 2021

کیوں پریشان کل خدائی ہے

 کیوں پریشان کُل خدائی ہے

کیسی آفت جہاں میں آئی ہے

وہ کہاں جائیں جن کا گھر ہی نہیں

گھر میں رہنا اگر بھلائی ہے

حسبِ دستور فاصلہ رکھیں

یہ وفا ہے نہ بے وفائی ہے

دور کرتا ہے وہ تمہیں مجھ سے

نام اتوار کا جدائی ہے

ہاتھ دھو کر پتہ چلا ہم کو

ہم نے پھر زندگی کمائی ہے

اپنے چہرے پہ تم نقاب رکھو

یہ شریعت نہیں دوائی ہے

یہ جو دنیا میں ہو رہا ہے رضا

کیا قیامت کی رونمائی ہے


رضا حیدری

No comments:

Post a Comment