تبسم لب پہ ہے سرکار کیسا
ہے ظاہر غم سرِ رُخسار کیسا
کہانی عشق کی خوں مانگتی تھی
نبھایا آپ نے کردار کیسا
نہ ہو مشہور دنیا میں محبت
تو پھر گُھٹ گُھٹ کے کرنا پیار کیسا
دیا ہے میں ہوں لیکن اجنبی سا
یہ سایہ ہے سرِ دیوار کیسا
فنونِ آزری جس کو سِکھایا
وہی کہتا ہے؛ تُو فنکار کیسا
وہ فتنہ ساز ابھی پردے میں ہے پھر
ہے ہنگامہ سرِ بازار کیسا
سلیم! آرام گاہِ دل نہیں جب
پھر ان کا گیسوئے خمدار کیسا
سلیم رضا
No comments:
Post a Comment