ایک راجہ تھا ایک رانی تھی
لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی
اک جدائی کی بات اس نے بس
خیر، کوئی تو بات مانی تھی
یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا
چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی
رزق لے آیا کس گلی میں پھر
اس گلی کی تو خاک چھانی تھی
رو رہا ہے جو شخص اس نے تو
آج میری ہنسی اڑانی تھی
زیب اوریا
No comments:
Post a Comment