Sunday, 10 April 2022

کیسا جادو ہے کہ لو نام بھی جی اٹھتے ہیں

 کیسا جادو ہے کہ لو نام بھی جی اٹھتے ہیں

تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں

یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے

یہ دریچہ یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں

جانے کیا دور افق سے وہ ضیا آتی ہے

کچھ ستارے تو سرِِ شام بھی جی اٹھتے ہیں

اک نظر دیکھ لے مجھ کو جو نظر بھر کے تو

دنیا والوں کے یہ الزام بھی جی اٹھتے ہیں

تُو جو ٹہرے کبھی اک پل کو کسی محفل میں

خاص تو خاص ہیں سب عام بھی جی اٹھتے ہیں

کچھ لہو بند تخیل میں چھڑک دیتی ہوں

ایسے شعروں میں تو الہام بھی جی اٹھتے ہیں


ہما علی

No comments:

Post a Comment