اپنے رخسار پہ اشکوں کی ڈھلک دیکھوں گا
اور آتی ہے کہاں سے یہ کمک دیکھوں گا
اس لیے جاگا ہوں میں جاگی ہوئی رات کے ساتھ
چاند نکلے گا تو تیری بھی جھلک دیکھوں گا
سونپ دوں گا کسی سورج کو میں اپنی آنکھیں
اور پھر پھولوں پہ شبنم کی چمک دیکھوں گا
آ گیا کوئی سلیقہ جو پرندوں کی طرح
آسمانوں کو بہت دور تلک دیکھوں گا
جانے کس دیس گیا ہے وه نہ آنے والا
کب تلک گاؤں کی ویران سڑک دیکھوں گا
مجھ کو فرصت نہیں ملتی ہے زمیں سے احسان
آنکھ بھر کر میں بھلا کیسے فلک دیکھوں گا
احسان گھمن
No comments:
Post a Comment