Sunday, 10 April 2022

اپنے رخسار پہ اشکوں کی ڈھلک دیکھوں گا

 اپنے رخسار پہ اشکوں کی ڈھلک دیکھوں گا

اور آتی ہے کہاں سے یہ کمک دیکھوں گا

اس لیے جاگا ہوں میں جاگی ہوئی رات کے ساتھ

چاند نکلے گا تو تیری بھی جھلک دیکھوں گا

سونپ دوں گا کسی سورج کو میں اپنی آنکھیں

اور پھر پھولوں پہ شبنم کی چمک دیکھوں گا

آ گیا کوئی سلیقہ جو پرندوں کی طرح

آسمانوں کو بہت دور تلک دیکھوں گا

جانے کس دیس گیا ہے وه نہ آنے والا

کب تلک گاؤں کی ویران سڑک دیکھوں گا

مجھ کو فرصت نہیں ملتی ہے زمیں سے احسان

آنکھ بھر کر میں بھلا کیسے فلک دیکھوں گا


احسان گھمن

No comments:

Post a Comment