Sunday, 10 April 2022

قافلے پر جب کمیں گاہوں سے تیر آنے لگے

 قافلے پر جب کمیں گاہوں سے تیر آنے لگے

مڑ کے دیکھا سارے چہرے جانے پہچانے لگے

پھر بہار آئی ہے جانے کتنے گھر لے جائے گی

سرخ پتے گاؤں کے پیپل میں پھر آنے لگے

حوصلہ دینا مجھے اے رب کعبہﷻ! حوصلہ

جرم حق گوئی میں جب مقتل قریب آنے لگے

دے قبیلے کے بزرگوں کو خدا عقل سلیم

سب مجھے آداب مظلومی کے سکھلانے لگے

دیکھ اے بزمی! عروج شوخئ ذوق جمال

زخم بھی ان کے دیے الفت کے نذرانے لگے


سرفراز بزمی

No comments:

Post a Comment