قافلے پر جب کمیں گاہوں سے تیر آنے لگے
مڑ کے دیکھا سارے چہرے جانے پہچانے لگے
پھر بہار آئی ہے جانے کتنے گھر لے جائے گی
سرخ پتے گاؤں کے پیپل میں پھر آنے لگے
حوصلہ دینا مجھے اے رب کعبہﷻ! حوصلہ
جرم حق گوئی میں جب مقتل قریب آنے لگے
دے قبیلے کے بزرگوں کو خدا عقل سلیم
سب مجھے آداب مظلومی کے سکھلانے لگے
دیکھ اے بزمی! عروج شوخئ ذوق جمال
زخم بھی ان کے دیے الفت کے نذرانے لگے
سرفراز بزمی
No comments:
Post a Comment