Sunday, 10 April 2022

گو کہ فرشِ نشیں ہوئے ہم لوگ

 گو کہ فرشِ نشیں ہوئے ہم لوگ

تجھ سے بدتر نہیں ہوئے ہم لوگ

آسماں سر پہ ہم اٹھاتے تھے

کیسے زیرِ زمیں ہوئے ہم لوگ

ترکِ الفت بھی ترکِ دنیا ہے

کیا ہی گوشہ نشیں ہوئے ہم لوگ

دِل کو سمجھا رہے ہیں یہ کہہ کر

بوڑھے غم سے نہیں ہوئے ہم لوگ

اس کو مایوس، رب نہیں کرتا

جِس نے مشکل میں حوصلہ رکھا

ہے یقین، رِزق بھی وہی دے گا

جس نے ٹہنی پہ گھونسلہ رکھا

صرف تیری رضا پہ جیتے ہیں

ورنہ اس زیست میں ہے کیا رکھا

دگنا دینا پڑے گا روزِ حشر

حق جو حقدار کا دبا رکھا

کیا خبر تِیرگی کا مارا ہو

راہ میں جس نے ہے دِیا رکھا

ہم نہ سمجھے تھے لغت میں تیری

درد کا نام ہے، دوا رکھا

تم کو عادت نہ میری پڑ جائے

میں نے دانستہ فاصلہ رکھا


شہزاد سمانا

No comments:

Post a Comment