آس کے ٹوٹے ہوئے پر نہیں دیکھے جاتے
روح میں ہوتے ہوئے در نہیں دیکھے جاتے
کوئی ترکیب لڑاؤ کہ پلٹ کر جھپٹیں
ہار کر بھاگتے لشکر نہیں دیکھے جاتے
میرے احساس کے چہرے سے کُھرج دو آنکھیں
مجھ سے یہ کرب کے منظر نہیں دیکھے جاتے
قہقہے جن کی فضاؤں میں نمو پاتے تھے
زد میں سناٹوں کی وہ گھر نہیں دیکھے جاتے
اے مِرے داغ زدہ خواب! تجھے کیا معلوم؟
کھیت دہقانوں سے بنجر نہیں دیکھے جاتے
میری آنکھوں سے مِرے دل کو ہٹا دو پل بھر
اس قدر زخم برابر نہیں دیکھے جاتے
ہم تِری یاد میں مجذوب پڑے رہتے ہیں
ہم تِری بزم میں اکثر نہیں دیکھے جاتے
دائم بٹ
No comments:
Post a Comment