Sunday, 10 April 2022

آس کے ٹوٹے ہوئے پر نہیں دیکھے جاتے

 آس کے ٹوٹے ہوئے پر نہیں دیکھے جاتے

روح میں ہوتے ہوئے در نہیں دیکھے جاتے

کوئی ترکیب لڑاؤ کہ پلٹ کر جھپٹیں

ہار کر بھاگتے لشکر نہیں دیکھے جاتے

میرے احساس کے چہرے سے کُھرج دو آنکھیں

مجھ سے یہ کرب کے منظر نہیں دیکھے جاتے

قہقہے جن کی فضاؤں میں نمو پاتے تھے

زد میں سناٹوں کی وہ گھر نہیں دیکھے جاتے

اے مِرے داغ زدہ خواب! تجھے کیا معلوم؟

کھیت دہقانوں سے بنجر نہیں دیکھے جاتے

میری آنکھوں سے مِرے دل کو ہٹا دو پل بھر

اس قدر زخم برابر نہیں دیکھے جاتے

ہم تِری یاد میں مجذوب پڑے رہتے ہیں

ہم تِری بزم میں اکثر نہیں دیکھے جاتے


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment