تِری کامل بیانی وجد کو رفتار دیتی ہے
مِرے محسن مِری ہر آہ کو کردار دیتی ہے
اگر غم مستقل ہوتے تو کوئی غم نہیں ہوتا
مگر گرگٹ مزاجی زندگی کی مار دیتی ہے
وہ مجھ سے روبرو ہوکر تمنّائے محبت میں
مِرے اشعار کومیری ہی خاطر وار دیتی ہے
یہ دنیا میری رہداری کو اک میری شراکت پر
بڑے ہی ناروا الفاظ میں تکرار دیتی ہے
نہیں کوئی محافظ ہر طرف رہزن ہی رہزن ہیں
گھٹا بھی ادھ کھلے پھولوں کو یاں پھنکار دیتی ہے
نہ جانے آس میں کس کی ہے یہ وحشت زدہ ممتا
مِرے جذبِ تکِّلم کو نیا اظہار دیتی ہے
بھلا بے وقت خاموشی سے کیا حاصل تجھے واحد
تِری حاضر جوابی رنگِ نو گفتار دیتی ہے
واحد کشمیری
No comments:
Post a Comment