Sunday, 10 April 2022

سبک رفتار لمحوں کی حدیں ترتیب دیتا ہوں

سُبک رفتار لمحوں کی حدیں ترتیب دیتا ہوں

سحر کے سانس گِنتا ہوں شبیں ترتیب دیتا ہوں

مِرے لوگوں کی فطرت میں یزیدی وصف شامل ہے 

وہی مجھ کو مٹاتے ہیں جنہیں ترتیب دیتا ہوں 

خزاں نے خشک پتّوں میں صدائیں بانٹ رکھی ہیں 

میں ان کی سرسراہٹ سے دُھنیں ترتیب دیتا ہوں 

تجھے سوچوں تو پہلو سے سَرک جاتا ہے میرا دل 

سو دل پر ہاتھ رکھ کر دھڑکنیں ترتیب دیتا ہوں 

میں آبِ زر سے لکھتا ہوں تمہارا نام شعروں میں 

سنہرے حرف بُنتا ہوں تمہیں ترتیب دیتا ہوں 


سلیم ساگر

No comments:

Post a Comment