ہم جو آسانی سے حاصل ہو گئے
لوگ ناقدری پہ مائل ہو گئے
گرچہ آمادہ تھے وہ تجدید پر
پھر پرانے کچھ مسائل ہو گئے
ہجر نے کڑوا کیا ہے تن بدن
ذائقے جتنے تھے زائل ہو گئے
ان سخی آنکھوں کا یہ وردان ہے
شاہ ان کے در پہ سائل ہو گئے
توڑ جاتے ہم سبھی رشتے مگر
ان کہے کچھ لفظ حائل ہو گئے
وار دشمن کا سہا ہے خیر سے
دوستی کے شر سے گھائل ہو گئے
ہما علی
No comments:
Post a Comment