Tuesday, 16 March 2021

حال دنیا میں ہوا رحم کے قابل اپنا

حال دُنیا میں ہوا رحم کے قابل اپنا

نہ خسم اپنا ہے باجی نہ مؤا دل اپنا

وقت کی اپنے میں لیلیٰ ہوں وہ مجنوں گوئیاں

اور کیا چاہیے چُھپ جائے گا ناول اپنا

صبر بندی کا سمیٹا کیے مرتے مرتے

قبر میں ان کی فرشتہ نہ ہو نازل اپنا

ایک سے لاکھ تک انکار نہیں کرنے کی

لا کے دکھلائیں تو مجھ کو وہ ذرا بل اپنا

رات چُرائی تھی پھر اگلی محبت ان کی

مجھ کو پڑھ پڑھ کے سُنایا کیے ناول اپنا

جونک پتھر میں نہیں لگتی ہے یہ سچ ہے مگر

کیسے کر لے کوئی تیرا سا موئے دل اپنا

ایک سے ایک زمانے میں پڑے ہیں شیدا

کیسے کہتے ہو نہیں کوئی مقابل اپنا


شیدا الہ آبادی

مولوی نثار حسین خاں

No comments:

Post a Comment