Saturday, 9 October 2021

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم

کس گماں میں ہیں تِرے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ

دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم

کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے

تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم

ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی؟

یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

توڑ ڈالیں گے کسی دن گھنے جنگل کا غرور

لکڑیاں چنتے ہوئے، آگ جلاتے ہوئے ہم

تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے

دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

خود کو یاد آتے ہی بے ساختہ ہنس پڑتے ہیں

کبھی خط تو کبھی تصویر جلاتے ہوئے ہم


نعمان شفیق

No comments:

Post a Comment