Tuesday, 11 October 2022

لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے

 لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے

مگر یار خفا ہو تو ٹھیک ٹھاک مسئلہ ہے

کون کس حال میں ہے یہ بھید نہیں کُھلتا

روحوں پر جسموں کی پوشاک مسئلہ ہے

بھوک خدا کی شناخت بدل کر رکھ دیتی ہے

تم نہیں سمجھو گے یہ کتنا سفاک مسئلہ ہے

جذبے رواجوں کی زد میں دم توڑ دیتے ہیں

یہاں کسی کا شملہ ،کسی کی ناک مسئلہ ہے

قباحت نہیں سرسری سا دیکھ لینے میں

یوں ٹکٹکی باندھنا یوں انہماک مسئلہ ہے

کبھی کبھار محبت بھی حل طلب ہوتی ہے

صحنِ مفلس کا اگرچہ خوراک مسئلہ ہے

قیامت ہے آپ کا حسن اور ادائیں بھی کمال

دل پر مگر ایک سانولی کی دھاک مسئلہ ہے


جرار حیدر

No comments:

Post a Comment