لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے
مگر یار خفا ہو تو ٹھیک ٹھاک مسئلہ ہے
کون کس حال میں ہے یہ بھید نہیں کُھلتا
روحوں پر جسموں کی پوشاک مسئلہ ہے
بھوک خدا کی شناخت بدل کر رکھ دیتی ہے
تم نہیں سمجھو گے یہ کتنا سفاک مسئلہ ہے
جذبے رواجوں کی زد میں دم توڑ دیتے ہیں
یہاں کسی کا شملہ ،کسی کی ناک مسئلہ ہے
قباحت نہیں سرسری سا دیکھ لینے میں
یوں ٹکٹکی باندھنا یوں انہماک مسئلہ ہے
کبھی کبھار محبت بھی حل طلب ہوتی ہے
صحنِ مفلس کا اگرچہ خوراک مسئلہ ہے
قیامت ہے آپ کا حسن اور ادائیں بھی کمال
دل پر مگر ایک سانولی کی دھاک مسئلہ ہے
جرار حیدر
No comments:
Post a Comment