Tuesday, 25 August 2020

مری سرشت میں دھوکا نہیں محبت ہے

ثبوتِ عشق، جمالِ یقیں محبت ہے
مِری سرشت میں دھوکا نہیں، محبت ہے
گلِ خلوص مہکتا ہے میری صورت میں
مِرا مزاج، مِری سرزمیں محبت ہے
سب اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں یہاں
مِرے خیال میں سب سے حسیں محبت ہے
میں اس کے دل میں اتر کر تلاش کر بھی چکا
میں جانتا تھا یہیں پر کہیں محبت ہے
میں ظالموں کا طرفدار ہو نہیں سکتا
میں دِین دار ہوں اور مِرا دِیں محبت ہے
نفس نفس ہے نمائندۂ نصابِ نفیس
سو کار ہائے جہاں بہتریں محبت ہے
بکھیرتے ہیں گلاب اور مہک لب و گیسو
نظامِ عارض و چشم و جبیں محبت ہے
اسے غرور یوں ہی تو نہیں علی یاسر
وہ میرا خواب، مِری اولیں محبت ہے

علی یاسر

No comments:

Post a Comment