تلاش کون کرے گا مجھے گماں سے پرے؟
میں چھپ گیا ہوں کہیں اپنے جسم و جاں سے پرے
بس ایک دھوپ کی شدت کے یاد کچھ بھی نہیں
تمام عمر گزاری ہے سائباں سے پرے
ذرا سی بات پہ ہم سے خدا گریزاں ہے
یہ التجا ہے، کہ اس غیر کے اشارے پر
کِیا نہ جاۓ ہمیں بزمِ دوستاں سے پرے
یہ اور بات، مہینوں📅 نظر نہیں آتا
وہ رہ رہا ہے اگرچہ مِرے مکاں سے پرے
میں ان کے پاس جو بیٹھا تو ہنس کے یوں بولے
ضرور بیٹھئے، لیکن ذرا یہاں سے پرے
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment