پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا
قیدِ انا سے ہو کے وہ آزاد آوے گا
اس بت سے جی لگا نہ لگا کیا مجھے ولے
پھر کیا کرے گا جب وہ تجھے یاد آوے گا
میں تو کروں ہوں عمر بھر اک دشت کا سفر
میں اس کو دیکھتا ہوں تو آتا ہے دھیان میں
کس کام اس کے یہ دلِ برباد آوے گا
میں جب کہا کہ غم سے طبیعت بحال ہے
بولا وہ، روز حشر ہی تو شاد آوے گا
بازارِ ہست و بود میں شیشہ گری مِری
کوہِ جنوں بھی سر پہ مجھے لاد آوے گا
علی یاسر
No comments:
Post a Comment