آنکھ سے خواب لے گیا اور وہ اشک بھر گیا
عشق تھا یا خمار تھا وقت کے ساتھ اتر گیا
خوشبو کو تازگی ملی، رنگوں کو روشنی ملی
آئی بہار تو ہر ایک پھول سنور سنور گیا
شام ہوئی تو اس کی یاد روح میں جلوہ گر ہوئی
ہم ہوئے در بدر تو کیا کوئی تو اپنے گھر گیا
کِشتِ سراب کھِل گئی، منزلِ خواب مل گئی
میں نہ پہنچ سکا وہاں، پر مرا ہمسفر گیا
تیری صدا کا جوش ہے، عرش ادھر خموش ہے
دیکھ لے اے دریدہ دل! تیرا بھی اب اثر گیا
کاسۂ زہر اس کے ہاتھ، شہر کا شہر اس کے ساتھ
جان عزیز تھی بہت، ملنے اسے مگر گیا
دار پہ سر بلند ہوں، شاعرِ دل پسند ہوں
لے کے عروج پر مجھے ساتھ مرا ہنر گیا
شوقِ سوال کی قسم، رنگِ جمال کی قسم
تیرے جلال کی قسم میں وہ نہیں جو ڈر گیا
تیرا مرا ہے ربطِ خاص، بس میں نہیں مرے حواس
تُو نے کہا تو جی اٹھا، تُو نے کہا تو مر گیا
علی یاسر
No comments:
Post a Comment