Tuesday, 8 December 2020

یہ درد یہ آہیں یہ چبھن کس کے لیے ہے

 یہ درد، یہ آہیں، یہ چبھن کس کے لیے ہے؟

آنکھوں میں میری اب بھی جلن کس کے لیے ہے

خلوت میں یہی سوچتی رہتی ہوں شب و روز

دن رات مشقت، یہ تھکن کس کے لیے ہے

میں کون ہوں، کیا ہوں، مجھے کوئی تو بتائے

آخر یہ میری جان، یہ من کس کے لیے ہے؟

کہتی ہوں بڑے پیار سے جس کے لیے غزلیں

گر وہ نہیں سُنتا، تو سخن کس کے لیے ہے؟

آنکھوں میں سجائے ہوئے اب بھی ہوں کئی خواب

آباد میرے دل کا چمن، کس کے لیے ہے؟

جب کوئی نہیں تیرے سِوا اپنا خدایا

دنیا سے مجھے پھر بھی لگن کس کے لیے ہے

مجھ کو کسی احساس نے چونکا سا دیا ہے

تیار جو ہوتا ہے کفن، کس کے لیے ہے؟


روبینہ شاد

No comments:

Post a Comment