Tuesday, 8 December 2020

ماں باپ کے قدموں کے نشاں بیچ گئے ہیں

 ماں باپ کے قدموں کے نشاں بیچ گئے ہیں

بھائی مِرے، ورثے کا مکاں بیچ گئے ہیں

کچھ لوگ چراغوں کو دھواں بیچ گئے ہیں

حیران ہوں کیا چیز کہاں بیچ گئے ہیں

پہلے میں سمجھتا تھا زمیں کچھ نہیں لگتی

چھوڑ آئے تو چنتا ہے کہ ماں بیچ گئے ہیں

میں واقفِ دوراں تھا مگر خواب یہ میرے

معلوم نہیں مجھ کو کہاں بیچ گئے ہیں؟

اس عمر میں یہ بوجھ بھلا کون اٹھاتا؟

دل بیچ دیا، راحتِ جاں بیچ گئے ہیں

یوسف ہوں نہ یہ مصر کا بازار ہے اختر

کس شخص کو یہ لوگ کہاں بیچ گئے ہیں


اختر ملک

No comments:

Post a Comment