ہم لڑیں گے ساتھی
اُداس موسم کے خلاف
ہم لڑیں گے ساتھی غلام خواہشات کے لیے
ہم لڑیں گے ساتھی
جب بندوق ناں ہوئی، تو تلوار ہو گی
جب تلوار ناں ہوئی، لڑنے کی لگن ہو گی
لڑنے کا پتا ناں ہوا، لڑنے کی ضرورت ہو گی
اور ہم لڑیں گے
ہم لڑیں گے
کہ لڑے بغیر کچھ بھی نہیں ملتا
ہم لڑیں گے
کہ ابھی تک لڑے کیوں نہیں
ہم لڑیں گے
اپنی سزا قبول کرنے کے لیے
لڑ کر مر جانے والوں کی یاد زندہ رکھنے کے لیے
ہم لڑیں گے
پاش
اوتار سنگھ سندھو
No comments:
Post a Comment