کسی ظالم کی جیتے جی ثنا خوانی نہیں ہو گی
کہ دانا ہو کے مجھ سے ایسی نادانی نہیں ہو گی
عدو سے کیا گِلہ کرنا کہ وہ معذور لگتا ہے
ہماری قدر و قیمت اس نے پہچانی نہیں ہو گی
نجومی میں نہیں لیکن یہ اندازے سے کہتا ہوں
محبت تو رہے گی پر یہ ارزانی نہیں ہو گی
علاج اصل ہے اک آزمودہ نسخہ دنیا میں
پریشاں تم رہو گے تو پریشانی نہیں ہو گی
کھلا دروازہ رکھ چھوڑا ہے جب جی چاہے آ جانا
اجی اب ہم سے اپنے گھر کی دربانی نہیں ہو گی
نہ تم آئے تو صابر! کیا مزہ آئے گا محفل میں
غزل خوانی تو ہو گی، پر گل افشانی نہیں ہو گی
صابر آفاق
No comments:
Post a Comment