Sunday, 3 April 2022

کسی ظالم کی جیتے جی ثنا خوانی نہیں ہو گی

 کسی ظالم کی جیتے جی ثنا خوانی نہیں ہو گی

کہ دانا ہو کے مجھ سے ایسی نادانی نہیں ہو گی

عدو سے کیا گِلہ کرنا کہ وہ معذور لگتا ہے

ہماری قدر و قیمت اس نے پہچانی نہیں ہو گی

نجومی میں نہیں لیکن یہ اندازے سے کہتا ہوں

محبت تو رہے گی پر یہ ارزانی نہیں ہو گی

علاج اصل ہے اک آزمودہ نسخہ دنیا میں

پریشاں تم رہو گے تو پریشانی نہیں ہو گی

کھلا دروازہ رکھ چھوڑا ہے جب جی چاہے آ جانا

اجی اب ہم سے اپنے گھر کی دربانی نہیں ہو گی

نہ تم آئے تو صابر! کیا مزہ آئے گا محفل میں

غزل خوانی تو ہو گی، پر گل افشانی نہیں ہو گی


صابر آفاق

No comments:

Post a Comment