زندگی کا چراغ جلتا ہے
یا مِرے دل کا داغ جلتا ہے
دشت و در کی تو بات ہی کیا دوست
آج ہر ایک باغ جلتا ہے
ہائے دل کی اداس راتوں میں
انجمن کا فراغ جلتا ہے
اپنی خوددار وضع کے صدقے
ایک عالی دماغ جلتا ہے
لالہ صورت نہ ہو شہیدی ہی
بزمِ گُل میں چراغ جلتا ہے
سلطان الحق شہیدی کاشمیری
شہیدی کاشمیری
No comments:
Post a Comment