Sunday, 3 April 2022

اپنے جذبوں کی تھکن یوں بھی اتاری ہم نے

 اپنے جذبوں کی تھکن یوں بھی اتاری ہم نے

زندگی دشت نوردی میں گزاری ہم نے

کم نہ کی شہر پہ سورج نے تمازت اپنی

سردیاں خود ہی فضاؤں پہ کیں طاری ہم نے

زخم جس ہاتھ پہ تھا کاٹ دیا ہے اس کو

بس دکھائی ہے یہی کارگزاری ہم نے

جن کی تائید پہ چمکے تھے انا کے جوہر

پھر سرِ دار نہ دیکھے وہ حواری ہم نے

تجھ کو معلوم نہیں تیر چلانے والے

صید ہوتے ہوئے دیکھے ہیں شکاری ہم نے


انجم جعفری

No comments:

Post a Comment