حد درجہ تیری یاد سے پہلو تہی بھی کی
اور اس ستم شعار سے ہم آغوشی بھی کی
میں خانماں خراب وہ خانہ بدوش ہوں
جس نے کہ شہرِیار سے ہمسائیگی بھی کی
ہر شب فراقِ یار کو بستر پہ ڈال کر
فہم و خیال و فکر میں ہمبستری بھی کی
خود داری و انا کو پسِ پشت ڈال کر
دنیا تیرے مزاج سے ہم آہنگی بھی کی
کمیل جعفری
No comments:
Post a Comment