یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں
مصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیں
اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہہ دیا
میں آپ کا رہوں گا مگر عمر بھر نہیں
آ ہی گئے ہیں خواب تو پھر جائیں گے کہاں
آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہگزر نہیں
کتنا جئیں کہاں سے جئیں اور کس لیے
یہ اختیار ہم پہ ہے تقدیر پر نہیں
ماضی کی راکھ الٹیں تو چنگاریاں ملیں
بے شک کسی کو چاہو مگر اس قدر نہیں
آلوک شریواستو
No comments:
Post a Comment