Thursday, 17 June 2021

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں

 یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں

مصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیں

اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہہ دیا

میں آپ کا رہوں گا مگر عمر بھر نہیں

آ ہی گئے ہیں خواب تو پھر جائیں گے کہاں

آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہگزر نہیں

کتنا جئیں کہاں سے جئیں اور کس لیے

یہ اختیار ہم پہ ہے تقدیر پر نہیں

ماضی کی راکھ الٹیں تو چنگاریاں ملیں

بے شک کسی کو چاہو مگر اس قدر نہیں


آلوک شریواستو

No comments:

Post a Comment