Thursday, 8 July 2021

میرے سینے میں محبت کی وبا پھوٹتی ہے

 تین قطعات


یار من! تجھ سا کوئی یار زمانے میں نہیں

تیرے ہر انگ سے خوشبوئے وفا پھوٹتی ہے

اے جگر تاب! جگر پاش! نگاہیں تو ہٹا

میرے سینے میں محبت کی وبا پھوٹتی ہے


کمیل جعفری


دوستا! سختئ ایام سے گھبرا تو نہیں

درد کو درد نہ سمجھو تو یہ گھٹ جاتا ہے

میں نے ہنگامِ زمانہ سے سبق یہ سیکھا

وقت اچھا یا برا، جیسا ہو، کٹ جاتا ہے


کمیل جعفری


خُمارِ حِرص و ہوس میں لتھڑنے والو سنو

بھنبھوڑتے ہو جنہیں وہ بدن بٹیر نہیں

طلوعِ شمسِ عدل ایک روز تو ہو گا

خدا کے گھر میں فقط دیر ہے اندھیر نہیں


کمیل جعفری

No comments:

Post a Comment