Thursday, 8 July 2021

زخم نما سڑک

 زخم نما سڑک


میں دیکھتا ہوں کہ اس کی شکل

آنسو جیسی ہے

گول چہرہ کہ مہندی لگے ہاتھوں سے

کھنکتی چوڑیوں کی آواز میں

من چاہے شخص کے لیے

پہلی بنائی روٹی جیسا

مصنوعی ہنسی کہ جس میں سرخی کا رنگ

چاند گرہن لگتا ہے

ماں اسے چاند کہتی ہو گی

مگر چاند لکڑی کا نہیں

جیسے دیمک لگ جائے

پھر بھی جیسے سوچتی ہو

زندگی کی ٹرین میں زنجیر تک دسترس کیوں نہیں ہے

وردی تو ’کاغذی پیرہن‘ ہے

جہاں تمام مسافر حاکم

اور وہ اکیلی محکوم ہے

گھڑیاں واپس کیوں نہیں چلتیں؟

مقدر کے اورق پہ کچھ ترمیم درکار ہے

کہ مجھے عورت ہونے کا دکھ ہے

پچھتاوے کا ازالہ مزید پچھتاوہ کیوں ہے؟

بانکی عمر کی خوشیاں

ریڈیو پہ لگے گانے کی مانند ہیں

ایک بار گزر جائیں تو واپس نہیں آتیں

کسی نے نام سے آواز دی

ماں کا خاوند یاد آیا

مدینے کی موت مانگنے والے

اپنوں کے حق میں کوفی کیوں ہیں؟

کاش تمہارا فون کسی گاڑی کے نمبر جیسا ہوتا

مجھے یاد رہتا

میرے ہاتھ تحفے سے ناآشنا ہیں

کہ انہیں ٹکٹ اکٹھے کرنے ہیں

میرے کان گاڑیوں کے ہارن سننے کے لیے ہیں

ترستے ہیں کہ سنیں کبھی

اپنے گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز

آدمی اور آدمیت میں انیس بیس کا فرق ہوتا

تو خیر تھی

یاقوت آنکھوں کی قسم

انیس دو لاکھ کا فرق دیکھا ہے

مزاحیہ فلم دیکھ کے رونے والی لڑکی

اگر جانچا جائے تو اس کے خون کا گروپ

دکھ پازیٹو ہو گا

حبس میں ہوا کے جھونکے جیسی لڑکی

طاق راتوں میں مانگی دعاؤں جیسی لڑکی

اپنی عمر سے کئی سال بڑی ہے

اور سمجھ گئی ہے

اپنے سائے کے پاؤں نہیں کاٹے جاتے

مرنے تک تو جینا پڑتا ہے

ایک سے دوسرے شہر تک

ایک سے دوسرے شخص تک

عمر چار پہیوں، چند بوتلوں

پہلی سیٹ اور اول و آخر

اعلان کا نام ہے

تمام مسافروں سے التماس ہے

ہماری اگلی آرام گاہ

آخری آرام گاہ‘ ہے’


سہیل کاہلوں

No comments:

Post a Comment