زخم نما سڑک
میں دیکھتا ہوں کہ اس کی شکل
آنسو جیسی ہے
گول چہرہ کہ مہندی لگے ہاتھوں سے
کھنکتی چوڑیوں کی آواز میں
من چاہے شخص کے لیے
پہلی بنائی روٹی جیسا
مصنوعی ہنسی کہ جس میں سرخی کا رنگ
چاند گرہن لگتا ہے
ماں اسے چاند کہتی ہو گی
مگر چاند لکڑی کا نہیں
جیسے دیمک لگ جائے
پھر بھی جیسے سوچتی ہو
‘زندگی کی ٹرین میں زنجیر تک دسترس کیوں نہیں ہے’
وردی تو ’کاغذی پیرہن‘ ہے
جہاں تمام مسافر حاکم
اور وہ اکیلی محکوم ہے
گھڑیاں واپس کیوں نہیں چلتیں؟
مقدر کے اورق پہ کچھ ترمیم درکار ہے
کہ مجھے عورت ہونے کا دکھ ہے
پچھتاوے کا ازالہ مزید پچھتاوہ کیوں ہے؟
بانکی عمر کی خوشیاں
ریڈیو پہ لگے گانے کی مانند ہیں
ایک بار گزر جائیں تو واپس نہیں آتیں
کسی نے نام سے آواز دی
ماں کا خاوند یاد آیا
مدینے کی موت مانگنے والے
اپنوں کے حق میں کوفی کیوں ہیں؟
کاش تمہارا فون کسی گاڑی کے نمبر جیسا ہوتا
مجھے یاد رہتا
میرے ہاتھ تحفے سے ناآشنا ہیں
کہ انہیں ٹکٹ اکٹھے کرنے ہیں
میرے کان گاڑیوں کے ہارن سننے کے لیے ہیں
ترستے ہیں کہ سنیں کبھی
اپنے گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز
آدمی اور آدمیت میں انیس بیس کا فرق ہوتا
تو خیر تھی
یاقوت آنکھوں کی قسم
انیس دو لاکھ کا فرق دیکھا ہے
مزاحیہ فلم دیکھ کے رونے والی لڑکی
اگر جانچا جائے تو اس کے خون کا گروپ
دکھ پازیٹو ہو گا
حبس میں ہوا کے جھونکے جیسی لڑکی
طاق راتوں میں مانگی دعاؤں جیسی لڑکی
اپنی عمر سے کئی سال بڑی ہے
اور سمجھ گئی ہے
اپنے سائے کے پاؤں نہیں کاٹے جاتے
مرنے تک تو جینا پڑتا ہے
ایک سے دوسرے شہر تک
ایک سے دوسرے شخص تک
عمر چار پہیوں، چند بوتلوں
پہلی سیٹ اور اول و آخر
اعلان کا نام ہے
تمام مسافروں سے التماس ہے
ہماری اگلی آرام گاہ
آخری آرام گاہ‘ ہے’
سہیل کاہلوں
No comments:
Post a Comment