یہ کچے رنگ ہیں گہرے میں ان کو دھو نہیں سکتی
سبھی کچھ جانتی ہوں، اس لیے بھی رو نہیں سکتی
ابھی تک آنکھ کے ہر زاویے میں ہجر کے غم ہیں
تمہارے خواب آتے ہیں، مگر میں سو نہیں سکتی
پرانے پیڑ کی ٹہنی ہوں پر سر سبز ہوں اب تک
پرندے آتے جاتے ہیں میں بوڑھی ہو نہیں سکتی
مجھے وہ شعر کہنے ہیں کہ جن میں دل دھڑکتے ہوں
میں نقلی پھول آنگن میں کبھی بھی بو نہیں سکتی
بہادر میں بنوں جتنی مگر یہ بھی ہے سچ اقراء
کہ اب میں مر تو سکتی ہوں پہ تجھ کو کھو نہیں سکتی
اقراء عافیہ
No comments:
Post a Comment