Tuesday, 11 January 2022

اول اول خواب دکھایا جائے گا

 اول اول خواب دکھایا جائے گا

بعد میں امیدوں کو توڑا جائے گا

یوں تو ہے امید روا سب سے لیکن

وقت حاجت سب کو پرکھا جائے گا

پیار میں خود کو اچھے سے برباد کرو

حالت بگڑے گی تو سوچا جائے گا

دل کا حال جو آئینے پر آئے گا

پھر آئینہ یکسر توڑا جائے گا

مرتے دم تک قید رہے گا تو فیصل

قبر میں زنجیروں کو کھولا جائے گا


فیصل امتیاز

No comments:

Post a Comment