دستک
کبھی کبھی محسوس سا کچھ یوں ہوتا ہے
ایک دستک ہلکی ہلکی سی
پھر آہٹ بہت آہستہ سی
دل کے در پر ہوتی ہے
ہو شام، سویرا
یا رات کا چاہے کوئی پہر ہو
وقت کی کوئی قید نہیں
میں چاہوں یا نا چاہوں
اس کی بھی کوئی بات نہیں
پھر احساس یہ مجھ کو ہوتا ہے
دل کے بند جھروکوں میں
یوں بلا اجازت
ایک تم ہی تو آتے جاتے ہو
زائرہ عابدی
No comments:
Post a Comment