Monday, 7 March 2022

حفظ گل کے لیے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

 حفظ گل کے لیے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

ہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اور

لٹ کے سہمے ہوئے پودوں نے یہ سرگوشی کی

اب نگہبانوں پہ رکھیں گے نگہباں کچھ اور

شہر دل کچھ تو سجا لیں کہ بھرم رہ جائے

حسن‌ فاتح کو ہیں تاراج کے ارماں کچھ اور

وقت ہر سانس کے بدلے میں پسینہ مانگے

دل یہ چاہے کہ ہو آسان بھی آساں کچھ اور

شہر سے پھر کوئی وحشی ادھر آیا شاید

آج صحرا میں ہیں انداز غزالاں کچھ اور

جن کو مشاطگئ زلف کا دعویٰ تھا بہت

کر گئے گیسوئے گیتی وہ پریشاں کچھ اور

پھر کبھی ہو کہ نہ ہو ملنے کی صورت پیدا

چند ساعت ہی چلے محفل یاراں کچھ اور

کچھ نہ ہونے پہ بہت کچھ ہے میسر احسن

کاش ہوتے تِرے معمورے میں انساں کچھ اور


احسن علی

علی احسن

No comments:

Post a Comment