Sunday, 9 April 2023

دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا

 دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا

پر درد تو کشتی کی کہانی میں رہے گا

یہ خواب نہیں آنکھ میں اک آگ لگی ہے

اور اس پہ ستم یہ ہے کہ پانی میں رہے گا

آیا ہے یہاں جو بھی بدن چھوڑ گیا ہے

کیا کوئی بھی اس خانۂ فانی میں رہے گا

جب زخم بھرے جائیں گے سب وقت کے ہاتھوں

اک زخم مِرا یاد دہانی میں رہے گا

خوشبو کی طرح پھیلے گا پھر زہر بھی اس کا

یہ سانپ اگر رات کی رانی میں رہے گا

میں نیند کے صحرا میں بھٹکتا ہی رہوں گا

ہر خواب مِرا نقل مکانی میں رہے گا


احسن علی

علی احسن

No comments:

Post a Comment