دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا
پر درد تو کشتی کی کہانی میں رہے گا
یہ خواب نہیں آنکھ میں اک آگ لگی ہے
اور اس پہ ستم یہ ہے کہ پانی میں رہے گا
آیا ہے یہاں جو بھی بدن چھوڑ گیا ہے
کیا کوئی بھی اس خانۂ فانی میں رہے گا
جب زخم بھرے جائیں گے سب وقت کے ہاتھوں
اک زخم مِرا یاد دہانی میں رہے گا
خوشبو کی طرح پھیلے گا پھر زہر بھی اس کا
یہ سانپ اگر رات کی رانی میں رہے گا
میں نیند کے صحرا میں بھٹکتا ہی رہوں گا
ہر خواب مِرا نقل مکانی میں رہے گا
احسن علی
علی احسن
No comments:
Post a Comment