Wednesday, 5 April 2023

کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

 کہانی راستوں کو کھوجتی ہے


کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

کبھی کھن کھنکھناتی چوڑیوں میں

کھی ہونٹوں پہ لکھی مسکراہٹ

کبھی پاؤں میں ہے زنجیر کوئی

کبھی آنکھوں سے نکلے موتیے ہیں

کبھی رخسار پہ اک تل کسی کا

کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

کبھی بازار میں چلتے ہوئے سارے کے سارے

کبھی بوڑھے سے ہوتی گفتگو ہے

کبھی ہے عورتوں کی یہ لڑائی

کبھی اک حادثے کا یہ دھواں ہے

کبھی شہنائیوں میں ناچتی ہے

کبھی یہ جنگ میں لڑتی ہے رہتی

کبھی ہے امن میں خوشیوں کے لڈو

کبھی کوئی بائیک پہ بیٹھا ہوا مجھ سا مسافر

کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

کبھی کمرے میں بکھری کچھ کتابیں

کبھی لفظوں سے سینچی اک عمارت

کبھی آواز میں دل کا بیاں ہے

کبھی پتھر بھی باتیں کر رہے ہیں

کبھی رنگوں میں وہ سب کی زباں ہے

کبھی اس نظم میں میری

کہانی راستوں کو کھوجتی ہے


احسن علی

علی احسن

No comments:

Post a Comment