کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کبھی کھن کھنکھناتی چوڑیوں میں
کھی ہونٹوں پہ لکھی مسکراہٹ
کبھی پاؤں میں ہے زنجیر کوئی
کبھی آنکھوں سے نکلے موتیے ہیں
کبھی رخسار پہ اک تل کسی کا
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کبھی بازار میں چلتے ہوئے سارے کے سارے
کبھی بوڑھے سے ہوتی گفتگو ہے
کبھی ہے عورتوں کی یہ لڑائی
کبھی اک حادثے کا یہ دھواں ہے
کبھی شہنائیوں میں ناچتی ہے
کبھی یہ جنگ میں لڑتی ہے رہتی
کبھی ہے امن میں خوشیوں کے لڈو
کبھی کوئی بائیک پہ بیٹھا ہوا مجھ سا مسافر
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کبھی کمرے میں بکھری کچھ کتابیں
کبھی لفظوں سے سینچی اک عمارت
کبھی آواز میں دل کا بیاں ہے
کبھی پتھر بھی باتیں کر رہے ہیں
کبھی رنگوں میں وہ سب کی زباں ہے
کبھی اس نظم میں میری
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
احسن علی
علی احسن
No comments:
Post a Comment