ختم کر اب اس کہانی کا عذاب
موت جیسی زندگانی کا عذاب
حوصلہ دے خواہشوں کے قتل کا
یا اٹھا لے یہ جوانی کا عذاب
جا چکا الفاظ سے وہ کھیل کر
ہم پہ اترا ہے معانی کا عذاب
جاتے جاتے دے گیا بخشش میں وہ
عمر بھر کی بے زبانی کا عذاب
یہ نوا دشمن یہاں پر لائیں گے
خامشی کی حکمرانی کا عذاب
مرغوب حسین طاہر
No comments:
Post a Comment