Saturday, 10 September 2022

ختم کر اب اس کہانی کا عذاب

 ختم کر اب اس کہانی کا عذاب

موت جیسی زندگانی کا عذاب

حوصلہ دے خواہشوں کے قتل کا

یا اٹھا لے یہ جوانی کا عذاب

جا چکا الفاظ سے وہ کھیل کر

ہم پہ اترا ہے معانی کا عذاب

جاتے جاتے دے گیا بخشش میں وہ

عمر بھر کی بے زبانی کا عذاب

یہ نوا دشمن یہاں پر لائیں گے

خامشی کی حکمرانی کا عذاب


مرغوب حسین طاہر

No comments:

Post a Comment