مدفن
محبت تب تک محبت ہے
روح میں بے قراری سے
بدن میں سنسناہٹ ہو
تو خوشبو بھی کوئی اٹھے
مہک جب روح سے اٹھے
تو خوشبو سی کوئی گھیرے
دھڑکن میں کوئی دھڑکے
دلِ مغرور کی ہر دھڑکن
لیے اک اور دھڑکن ہو
چھپی سی یہ جو دھڑکن ہو
تمہیں نہ چین لینے دے
نہ صبر کے گھونٹ پینے دے
نہ ہی وہ تم کو جینے دے
مگر جس دن نہ ایسا کچھ
تمہیں محسوس ہو جاناں
سمجھ لینا اسی دن تم
محبت اب نہیں باقی
تمہارا کچھ نہیں باقی
نہیں جائز تمہیں اب ہے
کہ تم اس لاشے پہ بیٹھے
ماتم ہی کرو جاناں
یہی بہتر ہے اب جاناں
کہ اس کو دل کے مدفن میں
ہمیشہ کو جگہ دے دو
دفن کر دو
وگرنہ، خارش زدہ کتے اسے
گلیوں میں گھسیٹیں گے
اسے خود بھی بھنبھوڑیں گے
صلائے عام بھی دیں گے
جگالی کر چکیں گے جب
تعفن ایسا اٹھنا ہے
جسے نہ سہ سکو گے تم
جسے نہ سہ سکوں گی میں
جدائی لازمی گر ہو
نہ کرنا کوئی واویلا
مزارِ دل میں اپنے تم
محبت اور مجھے
بس دفن کر دینا
ریحانہ احمد جاناں
No comments:
Post a Comment