Monday, 15 August 2022

اس کو لایا جا سکتا ہے

 اس کو لایا جا سکتا ہے

تو پِھر سایہ جا سکتا ہے

وِیرانے کو گھر میں لا کر

دشت بسایا جا سکتا ہے

نیند چُرائی جا سکتی ہے

درد جگایا جا سکتا ہے

بوڑھا ہوں پر عشق فسانہ

لب پر لایا جا سکتا ہے

اللہ کی مخلوق سُکھی ہو

پیڑ لگایا جا سکتا ہے 

راہ بدلنا، لازِم ہے کیا؟

ساتھ بھی جایا جا سکتا ہے

آج غرور ہے سرمائے پر

کل یہ مایہ جا سکتا ہے

آنکھیں کھول کے چلنا ہو گا 

دھوکہ کھایا جا سکتا ہے

میٹھے بول کی آڑ میں حسرت

زہر پلایا جا سکتا ہے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment