جنوں میں آگ لگا دی ہے آشیانے کو
فلک بضد ہے مگر بجلیاں گرانے کو
ہمیں نے موڑ دیا اک نیا فسانے کو
ادھورا چھوڑ گئے تھے وہ آزمانے کو
گماں تلک نہ ہوا ہم کو دل کے جانے کا
’نجانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو‘
کہاں سے ملتی ہیں فرصت غمِ جہاں سے انھیں
کہ روز آتے ہیں ناصح ہمیں ستانے کو
یہ کیسا شورِ قیامت اُٹھا سلاسل سے
بہار آ گئی کیا وحشتیں بڑھانے کو؟
دریغ ہم نہ کریں جن پہ جاں لٹانے میں
وہ ہاتھ غیرکا تھامیں ہمیں ستانے کو
جنوں میں جوش ہے ایسا کہ گھاو ملتے ہیں
ہے کس نے چھیڑا مرے قصے اس پرانے کو
سفر نہ ختم ہُوا اس لئے مرا جاناں
کہ تنکے مل نہ سکے آشیاں بنانے کو
بنا تو لیتے کوئی گھر مثالی، ہم جاناں
نہ چار تنکے ملے آشیاں بنانے کو
ریحانہ احمد جاناں
No comments:
Post a Comment