Friday, 4 June 2021

جنوں میں آگ لگا دی ہے آشیانے کو

 جنوں میں آگ لگا دی ہے آشیانے کو

فلک بضد ہے مگر بجلیاں گرانے کو

ہمیں نے موڑ دیا اک نیا فسانے کو

ادھورا چھوڑ گئے تھے وہ آزمانے کو

گماں تلک نہ ہوا ہم کو دل کے جانے کا

’نجانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو‘

کہاں سے ملتی ہیں فرصت غمِ جہاں سے انھیں

کہ روز آتے ہیں ناصح ہمیں ستانے کو

یہ کیسا شورِ قیامت اُٹھا سلاسل سے

بہار آ گئی کیا وحشتیں بڑھانے کو؟

دریغ ہم نہ کریں جن پہ جاں لٹانے میں

وہ ہاتھ غیرکا تھامیں ہمیں ستانے کو

جنوں میں جوش ہے ایسا کہ گھاو ملتے ہیں

ہے کس نے چھیڑا مرے قصے اس پرانے کو

سفر نہ ختم ہُوا اس لئے مرا جاناں

کہ تنکے مل نہ سکے آشیاں بنانے کو

بنا تو لیتے کوئی گھر مثالی، ہم جاناں

نہ چار تنکے ملے آشیاں بنانے کو


ریحانہ احمد جاناں

No comments:

Post a Comment