وہ جو لوگ دل کی کتاب تھے وہ کہاں گئے
جو محبتوں کا نصاب تھے، وہ کہاں گئے
وہ جو حُسن تھا وہی حُسن حُسن نہیں رہا
جو عشق کے سبھی باب تھے وہ کہاں گئے
وہ جو ہم نے سوچا تھا ویسا کچھ بھی نہیں یہاں
جو ہماری آنکھوں کے خواب تھے‘ وہاں کہاں گئے
وہ جو دوست اچھے تھے، خوب اچھے تھے کیا ہوئے
جو ذرا ذرا سے خراب تھے وہ کہاں گئے
بھلا کیا ہوئے سبھی جگنوؤں کے وہ قافلے
وہ جو تتلیاں، جو گلاب تھے وہ کہاں گئے
مِرے ذہن میں یہ سوال کیسے سوال ہیں
جو مِرے لبوں پہ جواب تھے وہ کہاں گئے
افتخار شوکت
No comments:
Post a Comment