خط لکھے تھے جو ترے نام، مجھے لوٹا دے
روح کے گھاؤ، وہ آلام، مجھے لوٹا دے
جس کی دھڑکن بھی تِری مرضی کے تابع تھی کبھی
لکھ کے اُس دل پہ مِرا نام، مجھے لوٹا دے
جس پہ یہ عمر تِرے نام، لکھا تھا میں نے
ہاں وہی نامۂ انعام، مجھے لوٹا دے
تارا یہ صبح کا، اعلان شکستِ شب ہے
میری اندیشوں بھری شام، مجھے لوٹا دے
تجھ میں رنجش کو نبھانے کا سلیقہ ہی نہیں
تُو شب و روز کے ہنگام مجھے لوٹا دے
اس کو تا عمر میں سینے سے لگا کر رکھوں
درد میں بھیگی ہوئی شام، مجھے لوٹا دے
وقت کی رہ پہ نکل جاؤں گا میں دور بہت
بس وہ گزرے ہوئے ایام، مجھے لوٹا دے
سید کاشف
No comments:
Post a Comment