خوشی سے غم قبول تھے نہیں تھے کیا
وفا کے کچھ اصول تھے نہیں تھے کیا
چمن میں دشت کس طرح بڑا ہوا
چمن میں سرخ پھول تھے نہیں تھے کیا
یہ ہجر کیسے راس آ گیا تمہیں؟
بچھڑ کے تم ملول تھے، نہیں تھے کیا
یہ جن پہ منزلیں بھی اب ہیں مہرباں
یہ راستوں کی دھول تھے، نہیں تھے کیا
یہ چاند تارے تتلیاں ہوا فلک
ہمارے بِن فضول تھے، نہیں تھے کیا
یہ سوچ کر میں صائم آج ہنس پڑا
ہم آسماں کی بھول تھے، نہیں تھے کیا
عبدالباسط صائم
No comments:
Post a Comment